Monday, February 7, 2011

اخلاق و عادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

نبی صلى الله عليه وسلم کی جو تعریف کی جاتی ہے وہ ان مکارم اخلاق اور بہترین عادات و خصائل کی وجہ سے ہے ، جس پر اللہ تعالٰی نبی صلى الله عليه وسلم کو پیدا کیا ۔ہے ۔ بے شک نبی صلى الله عليه وسلم کے اخلاق و عادات پر نظر ڈالے گا تو وہ ضرور اعتراف کرے گا کہ یہی بہترین اخلاق ہیں ۔ بے شک نبی صلى الله عليه وسلم تمام مخلوق سے علم میں وسیع ، امانت میں عظیم تر ، گفتگو میں نہایت سچے اور موزوں کمال ، کمال سخی بہت زیادہ برباد اور عفو و مغفرت میں بزرگ تر تھے ، کوئی شخص کیسی ہی بڑھ کر جہالت سے پیش آتا ، نبی صلى الله عليه وسلم کو برداشت فرماتے ۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یوں روایت کی ہے کہ تورات میں نبی
صلى الله عليه وسلم
کی صفت اس طرح سے ہے ۔

‘‘ محمد
صلى الله عليه وسلم
میرا بندہ و رسول ہے ۔ میں نے اس کا نام متوکل رکھا ہے وہ بدزبان درشت طبع ، بازاروں میں آواز لگانے والا نہیں ۔ وہ بدی کا بدلہ نہیں لیتا ، بلکہ وہ معاف کرتا ہے اور بخشش دیتاہے ، میں اسے وفات نہ دوں گا جب تک بگڑی ہوئی ملت کو اس سے درست نہ بنوا دوں گا ۔ میں اس سے کور بصیرتوں کی آنکھوں کو روشن کراؤں گا اور بہروں کو سماعت ۔ وہ دلوں کے پردے اٹھا دے گا ۔ یہاں تک کہ لوگ لا الہ الا اللہ کہنے لگیں ۔''

نبی
صلى الله عليه وسلم مخلوق میں سب بڑھ کر رؤف رحیم اور دینی و دنیوی منفعت بخشنے میں سب سے زیادہ عظیم ، جوامع الکلم تھے ۔ اور بڑی بڑی عبارات کا مفہوم مختصر انداز میں بیان کر دینے میں تمام خلقت سے زیادہ فصیح و خوش گفتار تھے صبر کے موقعے پر کمال درجہ صابر اور مقامات لقا میں نہایت ہی باصدق ۔ عہد و حمایت میں نہایت کامل اور انعام و عطا بخشی میں سب سے بڑھ کر - تواضع میں کمال درجہ بڑھے ہوئے اور جودو سخا میں سب سے آگے نکلے ہوئے ۔ اوامر میں نہایت محکم و مضبوط ، نواہی میں بہت ہی تارک و نافر ۔ محبت و پیار ، اعزاپروری ، اقربا پروری میں دنیا بھر سے زیادہ اور اس شعر کے پورے پورے مصداق تھے

Thursday, February 3, 2011

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت حضرت ابو درداء سے روایت ہے ' انہوں نے فرمایا کہ میں نبی کریم ۖ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔اتنے میں ابوبکر صدیق اپنی چادر کا کنارہ اٹھائے ہوئے آئے یہاں تک کہ آپ کا گھٹنا ننگا ہو گیا۔نبی ۖ نے فرمایا:''تمہارے دوست کسی سے لڑ کر آئے ہیں ۔پھر حضرت ابوبکر نے سلام کیااور کہا کہ میرے اور ابن خطاب کے درمیان کچھ جھگڑا ہو گیا تھا۔میں نے جلدی سے انہیں سخت سست کہہ دیا۔پھر میں شرمندہ ہوا(اور ان سے معذرت کی)لیکن انہوں نے انکار کر دیااب میں آپ ۖ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔آپ ۖ نے فرمایا اے ابوبکر ! اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے'آپ ۖ نے یہ تین مرتبہ فرمایا۔پھر ایسا ہوا کہ حضرت عمر شرمندہ ہوئے اور حضرت ابوبکر کے گھر پرآئے اور دریافت کیا کہ ابوبکر یہاں موجود ہیں؟گھر والوں نے جواب دیا:نہیں۔پھر حضرت عمر نبی ۖ کے پاس گئے اور انہیں سلام کیا۔انہیں دیکھ کر نبی ۖ کے چہرے کا رنگ ایسا متغیر ہوا کہ ابوبکر ڈر گئے اور دو زانو بیٹھ کر عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ۖ!اللہ کی قسم میں نے ہی زیادتی کی تھی۔اس وقت نبی ۖ نے فرمایا:'اے لوگو!اللہ نے مجھے تمہاری طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تو تم لوگوں نے مجھے جھوٹا کہہ دیا اور ابوبکر نے مجھے سچا کہا اور انہوں نے اپنے مال اور جان سے میری خدمت کی۔کیا تم میری خاطر میرے دوست کو ستانا چھوڑ سکتے ہو؟اور آپ ۖ نے یہ دو مرتبہ فرمایا۔اس ارشاد گرامی کی بعد حضرت ابو بکر کو پھر کسی نے نہیں ستایا۔
فوائد:اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی انسان کے سامنے اسکی تعریف کرنا جائز ہے لیکن یہ اس وقت جب اس کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہواگر اس کی تعریف سے اس کے اندر خود پسندی پیدا ہونے کا خطرہ ہو تو اجتناب کرنا چاہئے (فتح الباری:٣١/٧)
٢:اس حدیث سے حضرت ابوبکر صدیق کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے کہ جو حضرت ابوبکر صدیق سے عداوت رکھتا ہے وہ درحقیقت نبی کریم ۖ سے عداوت رکھتا ہے اور جو نبی ۖ سے عداوت رکھے گا تو عین اس کی عداوت اللہ سے ہو گی۔اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق سے محبت اللہ اور اس کے رسول ۖ کی محبت ہے۔
حوالہ:رواہ بخاری:٣٦٦١


حضرت عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ نبی ۖنے انہیں غزوہ ذات السلاسل میں امیر بنا کر بھیجا تھا'وہ کہتے ہیں کہ جب میں واپس آپ ۖ کے پاس آیا تو میں نے عرض کیا کہ سب لوگوں میں سے کون شخص آپ کو زیادہ محبوب ہے؟آپ ۖ نے فرمایا:عائشہ رضی اللہ عنھا!میں نے عرض کیا مردوں میں سے کون؟آپ ۖ نے فرمایا ان کے والد گرامی(ابوبکر صدیق )میں نے پوچھا پھر کون؟فرمایا پھر عمر بن خطاب اس طرح درجہ بہ درجہ آپ ۖ نے کئی آدمیوں کے نام لئے۔(حوالہ:رواہ بخاری:٣٦٦٢)
فوائد:واقعہ یہ تھا کہ جس مہم میں حضرت عمرو بن عاص کو امیر بنا کر بھیجا گیا تھا اس دستے میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر بھی موجود تھے'اسی بنا پر حضرت عمروبن عاص کے دل میں خیال گزرا کہ شاید وہ ان سب سے افضل ہیں اسی لئے انہیں امیر بنا یا گیا ہے۔(فتح الباری:٣٢/٧)
 
٭حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے 'انہوں نے فرمایا کہ ایک عورت نبی ۖ کے پا س آئی تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ پھر آپ کے پاس آئے۔اس نے کہا کہ میںپھر آئوں اور آپ کو نہ پائوں'اس سے اس کی مراد وفات تھی۔آپ نے فرمایا اگر مجھے نہ پائو تو ابوبکر کے پاس چلے جانا۔(حوالہ:روا ہ بخاری:٣٦٥٩)
فوائد:اس حدیث سے رسول اللہ ۖ کے بعد حضرت ابوبکر کے خلیفہ ہونے کااشارہ ملتا ہے،نیزاس میں ان شیعہ حضرات کی تردید ہے جو دعوٰی کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے حضرت علی اور حضرت عباس کو خلیفہ بنانے کی وصیت کی تھی۔(فتح الباری:٢٨/٧)
٭حضرت عمار سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ۖ کو اس وقت دیکھا جب آپ کے ساتھ پانچ غلاموں 'دو عورتوں اور حضرت ابوبکر کے علاوہ کوئی نہ تھا۔
فوائد:حضرت عمار کا مطلب ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق آزاد لوگوں سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنے اسلام کا برسر عام اظہار کیا تھا ویسے بے شمار ایسے مسلمان موجود تھے جو اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے تھے(فتح الباری:٢٩/٢)

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

از میمونہ ظفر


ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہمدم سید المرسلین محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ، جگر گوشہ خلیفة المسلمین، شمع کاشانہء نبوت، آفتاب رسالت کی کرن، گلستان نبوت کی مہک، مہر ووفا اور صدق وصفا کی دلکش تصویر، خزینہ ئِ رسالت کا انمول ہیرا، جس کی شان میں قرآنی آیات نازل ہوئیں ۔ جس کو تعلیمات نبوی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم پر عبور حاصل تھا ۔ جسے اپنی زندگی میں لسان رسالت سے جنت کی بشارت ملی۔ جسے ازواج مطہرات میں ایک بلند اور قابل رشک مقام حاصل تھا۔ جو فقاہت، ثقاہت ، امانت ودیانت کے اعلیٰ معیار پر فائز تھیں۔

ولادت :
حضرت ام رومان کا پہلا نکاح عبداللہ ازدی سے ہوا تھا۔ عبداللہ کے انتقال کے بعد وہ ابوبکر کے عقد میں آئیں ۔ حضرت ابوبکر کے دو بچے تھے ۔ عبدالرحمن اور عائشہ ۔حضرت عائشہ کی تاریخ ولادت سے تاریخ وسیر کی تمام کتابیں خاموش ہیں ۔ ان کی ولادت کی صحیح تاریخ نبوت کے پانچویں سال کا آخری حصہ ہے۔

نام :
نام عائشہ تھا ۔ ان کا لقب صدیقہ تھا ۔ ام المومنین ان کا خطاب تھا ۔ نبی مکرم محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنت الصدیق سے بھی خطاب فرمایا ہے ۔اور کبھی کبھار حمیرا سے بھی پکارتے تھے۔

کنیت :
عرب میں کنیت شرافت کا نشان ہے ۔ چونکہ حضرت عائشہ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ اس لیے کوئی کنیت بھی نہ تھی۔ ایک دفعہ آنحضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے حسرت کے ساتھ عرض کیا کہ اور عورتوں نے تو اپنی سابق اولادوں کے نام پر کنیت رکھ لی ہے ، میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟ فرمایا : اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر رکھ لو''۔
چنانچہ اسی دن سے ام عبداللہ کنیت قرار پائی۔

نکاح:
ہجرت سے ٣ برس پہلے سید المرسلین سے شادی ہوئی۔ ٩ برس کی عمر میں رخصتی ہوئی ۔ سیدہ عائشہ کے علاوہ کسی کنواری خاتون سے نبی کریم محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے شادی نہیں کی ۔ ابھی ان کا بچپن ہی تھا کہ جبریل علیہ السلام نے ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر ان کی تصویر رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو دکھلائی اور بتایا کہ یہ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی دنیا وآخرت میں رفیقہ ئِ حیات ہے۔ سیدہ عائشہ کا مہر بہت زیادہ نہ تھا صرف 500 درہم تھا ۔

فضائل وکمالات:
حضرت عمرو بن عاص نے ایک دفعہ رسول اقدس محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کو دنیا میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا : ''عائشہ'' عرض کی مردوں میں کون ہے؟ فرمایا : اس کا باپ ۔ ایک دفعہ حضرت عمر نے اپنی بیٹی حضرت حفصہ ام المومنین کو سمجھاتے ہوئے کہا :بیٹی عائشہ کی ریس نہ کیا کرو ، رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے دل میں اس کی قدر ومنزلت بہت زیادہ ہے ۔
رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :
''مردوں میں بہت کامل گزرے لیکن عورتوں میں سے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کے سوا کوئی کامل نہ ہوئی اور عائشہ کو عورتوں پر اسی طرح فضیلت ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر''۔
امام ذہبی لکھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ پوری امت کی عورتوں سے زیادہ عالمہ ، فاضلہ ، فقیہہ تھیں ۔
عروہ بن زبیر کا قول ہے : میں نے حرام وحلال ، علم وشاعری اور طب میں ام المومنین عائشہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں فخر نہیں کرتی بلکہ بطور واقعہ کے کہتی ہوں کہ اللہ نے دنیا میں ٩ باتیں ایسی صرف مجھ کو عطا کی ہیں جو میرے سوا کسی کو نہیں ملیں ۔
1۔ خواب میں فرشتے نے آنحضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے میری صورت پیش کی۔
2۔ جب میں سات برس کی تھی تو آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا ۔
3۔ جب میرا سن ٩ برس کا ہوا تو رخصتی ہوئی ۔
4۔ میرے سوا کوئی کنواری بیوی آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں نہ تھی ۔
5۔ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم جب میرے بستر پر ہوتے تب بھی وحی آتی تھی ۔
6۔ میں آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی تھی ۔
7۔ میری شان میں قرآن کی آیتیں اتریں ۔
8۔ میں نے جبریل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔
9۔ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے میری گود میں سر رکھے ہوئے وفات پائی۔

حضرت عائشہ اور احادیث نبوی :

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کو علمی صداقت اور احادیث روایت کرنے کے حوالے سے دیانت وامانت میں امتیاز حاصل تھا ۔سیدہ عائشہ کا حافظہ بہت قوی تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ حدیث نبوی کے حوالے سے صحابہ کرام کے لیے بڑا اہم مرجع بن چکی تھیں ۔ حضرت عائشہ حدیث حفظ کرنے اور فتویٰ دینے کے اعتبار سے صحابہ کرام سے بڑھ کر تھیں۔سیدہ عائشہ نے دو ہزار دو سو دس (2210) احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی ۔
دور نبوی کی کوئی خاتون ایسی نہیں جس نے سیدہ عائشہ سے زیادہ رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی ہو ۔
صدیقہ کائنات سے ایک سو چوہتر (174) احادیث ایسی مروی ہیں جو بخاری ومسلم میں ہیں ۔

وفات :
سن ٥٨ ہجری کے ماہ رمضان میں حضرت عائشہ بیمار ہوئیں اور انہوں نے وصیت کی کہ انہیں امہات المومنین اور رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے اہل بیت کے پہلو میں جنت البقیع میں دفن کیا جائے ۔ماہ رمضان کی 17تاریخ منگل کی رات ام المومنین عائشہ نے وفات پائی ۔ وفات کے وقت ان کی عمر 66 برس تھی۔ 18سال کی عمر میں بیوہ ہوئی تھیں ۔ حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔

حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالٰی!

سورۃ عبس (80) کے بارے میں بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالٰی عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دین اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کیطرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ان کو راہ راست پر لاکھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں نہ مانیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام ، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے حضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے رہئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں عبس وتولی ان جاء الاعمی اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبد اللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم!

حضرت فاطمہ الزھراء (رضی اللہ عنہا

حضرت فاطمہ الزھراء (رضی اللہ عنہا) کی فضیلت

سعودی عرب کا اردو روزنامہ "اردو نیوز" جمعہ کے روز ایک سپلیمنٹ بنام "روشنی" شائع کرتا ہے جو دینی مضامین پر مشتمل ہوتا ہے اور اردو داں گھرانوں میں شوق سے پڑھا جاتا ہے۔ آج (11-07-2008) کے "روشنی" سپلیمنٹ سے ایک قابل غور و فکر مضمون کے اہم اقتباسات پیش خدمت ہیں۔
***

مضمون ؛ حضرت فاطمہ الزھراء (رضی اللہ عنہا) ، کائنات کی 4 مثالی خواتین میں سے ایک
مضمون نگارہ ؛ آمنہ کوثر۔

عصرِ حاضر میں عورت کی آزادی نے وہ بھیانک صورتیں اختیار کر لی ہیں جس کے تصور سے انسانیت لرزہ براندام ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ عورت شوہر کے گھر کی ملکہ اور زینت سمجھی جاتی تھی اور آج وہ شمعِ محفل ہے۔
پردہ کو خیرباد کہہ دینے اور حیا کو رخصت کرنے کے جو بدنتائج ہمیں نظر آتے ہیں اس سے نسوانی آزادی کے حامی بھی نفرت کرتے جا رہے ہیں لیکن اب یہ بڑھتا ہوا سیلاب رک نہیں سکتا۔

مذہب نے عورت کی کیا حیثیت قرار دی تھی ، محافظان دین و ملت نے نسوانی حقوق کا معیار مقرر کرنے میں کس قدر عدل پروری سے کام لیا تھا ، تدبیر منزل کی کیا صورتیں تجویز کی تھیں ، اولاد کی نشو و نما میں "ماں" کو کیا مخصوص درجہ دیا تھا اور گھر میں رکھ کر عورت کے کیا مشاغل قرار دئے تھے ، ان تمام موضوعات پر اگر قلم فرسائی کی جائے تو مستقل کتاب تیار ہو سکتی ہے۔ اس موضوع پر ہمارے اہلِ قلم نے جو جہاد قلم کیا ہے وہ خودپسند طبقہ کے انتباہ کے لئے کافی ہے۔

فخرِ کائنات کی پارہء تن حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی پاکیزہ زندگی کا مختصر تعارف موجودہ دور کی بہنوں کے لئے اسوہ حسنہ ہے تاکہ وہ ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی صلاحیت پیدا کریں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ؛ انسانیت کی عروج پر پہنچنے والے مرد تو بےشمار ہیں مگر خواتین صرف 4 ہیں۔
آسیہ (رضی اللہ عنہا)
مریم (علیہا السلام)
خدیجۃ الکبریٰ (رضی اللہ عنہا)
فاطمہ الزہرا (رضی اللہ عنہا)

اول الذکر نے فرعون جیسے دشمنِ توحید کی رفیقہ حیات بن کر بھی اپنے عقیدے کو باقی رکھا اور شوہر کا کفر و عناد ان کے توحید میں ذرہ برابر فرق پیدا نہ کر سکا۔
حضرت مریم علیہا السلام کی عصمت و طہارت پیش خیمہ تھی کہ ان کی گود میں روح اللہ کی نشو و نما ہوگی۔

ان خواتین کے بعد ایک وہ خاتون ہیں جو سرچشمہ عصمت و طہارت ہیں اور جن کی نسل کی بقا کا خدا ذمہ دار ہے۔ ان کی نسل شام ابد تک باقی رہے گی اور دنیا کا چپہ چپہ سادات سے معمور رہے گا۔
حضرت آسیہ ہوں یا حضرت مریم ، دونوں کو فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا جیسے نہ باپ ملے ، نہ شوہر ملا ، نہ فرزند عطا ہوئے لہذا فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کو وہ فضیلت عطا ہوئی جو دنیا کی کسی عورت کو حاصل نہیں۔

جب آپ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ثابت ہے تو ان کی طرز زندگی کو اپنانا بھی ثابت ہو جاتا ہے۔
اگر عورت کی آزادی کے لئے مرد کے مساوی حقوق کے دئے جانے کا کوئی تصور ہوتا تو اس نظریہ کی سب سے بڑی حامی سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا ہو سکتی تھیں لیکن ان کا حجاب میں رہنا اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہی دراصل دنیا و آخرت کی سعادت کا ضامن ہے۔

اللہ تعالی کا محبوب کام

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (ایک دفعہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو (دیکھا کہ) میرے پاس کوئی عورت (بیٹھی) تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے؟ میں نے عرض کی یہ فلاں عورت ہے جس کی نماز (کی کثرت) کا حال مشہور ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’خبردار! تم وہ اعمال کیا کرو جن کی (ہمیشہ کرنے کی) تم کو طاقت ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا حتیٰ کہ تم خود (عبادت کرنے سے) تھک جاؤ۔‘‘
پھر فرمایا:
’’اللہ کے نزدیک (سب سے) زیادہ محبوب وہ دین (کام) ہوتا ہے جس پر اس کا کرنے والا ہمیشگی کرے۔‘‘
(صحیح بخاری شریف کے منتخب واقعات.... صفحہ