Tuesday, February 1, 2011

بھارت میں ہر سال لاکھوں بچیاں قتل

دنیائے قدیم کی جہالت جسے مٹانے کیلئے انبیاءمصلح بن کر آتے رہے آج پھر اس جہالت کو حقوق انسانیت کے علمبردار روشن خیالی کے نام پر فروغ دے رہے ہیں۔ صنف نازک سے متعلق نقطہ نظر جہالت کی اس منزل پر پہنچ چکا ہے کہ اس سے آگے صرف تباہی ہے یہ ابن آدم جو ترقی کی انتہا پر پہنچ چکا ہے، ستاروں پر کمند ڈال رہا ہے سیاروں کو مسخر کر رہا ہے، زمین کے چھپے خزانے اور رازوں کو اپنے دماغ اور ذہانت کے بل بوتے پر منکشف کر رہا ہے زمین پر لمن الملک کے نقارے بجانے والا، اوج ثریا پر قدم رکھنے والا، درندگی کی انتہائی پستیوں میں گر چکا ہے، یہ اپنی ہی کونپلوں کو پنپنے نہیں دے رہا، اپنے ہی جیسے انسانوں کو مارتے مارتے اب وہ اپنی ہی بچیوں کو دنیا میں آنے سے قبل اور آنے کے بعد اس شیطانی سوچ کے تابع ہو کر مار رہا ہے کہ بچے دو ہی اچھے، انسان کو اپنی جان کے بعد جو چیز سب سے زیادہ محبوب ہوتی ہے وہ اس کی اولاد ہوتی ہے۔
اکثر اوقات اولاد کی محبت اپنے وجود سے بڑھ جاتی ہے ایک بوڑھا شخص زندگی بھر کی تگ و دو نے جس کی ہڈیوں کو گھلا کر رکھ دیا ہو اگر اس کا جواں سال بیٹا بستر مرگ پر پڑا ہو تو اس بوڑھے باپ کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ کاش کاتب تقدیر اس کی بقایا سانسیں اس کے بیٹے کے نام کر دے تا کہ وہ زندگی کی کچھ اور بہاریں دیکھ لے، لیکن جب انسان کا اپنے پیدا کرنے والے، رزق دینے والے رب سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے تو وہ اپنے خالق و مالک سے منہ موڑ لیتا ہے، اس میں خدا کے سامنے جوابد ہی کا احساس باقی نہیں رہتا، تو وہ فطرت سے بغاوت پر اتر آتا ہے، فطرت اسے آواز دیتی ہے کہ وہ اسے سنے لیکن وہ بہرہ بن جاتا ہے، فطرت کے تقاضے مجسم ہو کر اس کے سامنے آتے ہیں کہ وہ اسے دیکھے لیکن دل کی آنکھیں بے نور ہو چکی ہوتی ہیں، ان بے نور آنکھوں اور قسی القلبی کے ساتھ وہ وحشت و درندگی کا پیکر بن کر جہاں لوگوں کے خون کی ندیاں بہاتا ہے وہیں معاشی خوف میں مبتلا ہو کر اپنے ہاتھوں سے اپنی اولاد کا قتل کرتا ہے، بھلا یہ بات سوچی جا سکتی ہے کہ جن ہاتھوں نے سنبھال سنبھال کر اور اپنا خون جگر پلا پلا کر کلیوں کو غنچہ اور غنچے کو پھول بنایا وہی اسے بے دردی سے مسل کر رکھ دے گا۔
ماضی میں بھارت میں ایک تہائی لڑکیاں پیدائش سے قبل مار دی جاتی تھیں، ہندو عقیدے میں لڑکیوں کو بتوں کی بھینٹ چڑھا یا جاتا ہے، انیسویں صدی کے شروع کی شرح پیدائش کے مطابق بھارت میں چند گاؤں ایسے تھے جہاں بچیوں کا سرے سے وجود ہی نہیں تھا ممبئی میں 1834ءمیں لڑکیوں کی تعداد 603 تھی۔ ایسا نہیں کہ وہاں لڑکیاں پیدا ہی نہیں ہوئیں۔ انہوں نے اس دنیا میں آنکھ ضروری کھولی، لیکن خوفناک طریقے سے انہیں قتل کر دیا گیا، کسی بچی کے منہ میں گیلا تولیہ ٹھونسا گیا اور کسی کو چھلکے والے چاول کھلائے گئے جو اس کی سانس والی نالی میں پھنس گئے، کسی کو زہریلا پاؤڈر دودھ میں ملا کر دیا گیا، کچھ کا گلا گھونٹ دیا گیا، اور کچھ بچیوں کو کھانے پینے کیلئے کچھ نہ دیا گیا تا کہ وہ فاقے سے مر جائیں۔
آج کے دور کے دانشور، تھنک ٹینک، عالی دماغ سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی اگر اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو دنیا کے تمام معاشی و وسائل کو چٹ کر جائے گی، آبادی کے عفریت کو کنٹرول کرنا اس وقت اہم مسئلہ ہے، آبادی کی بڑھتی رفتار کے سامنے بند باندھنے کیلئے کم بچے خوشحال گھرانہ اور منصوبہ بندی و بہبود آبادی کے روشن خیال سحر زدہ نعرے ایجاد کےے گئے۔
رحم مادر میں بچوں کا قتل درخشاں مستقبل کی ضمانت سمجھا گیا، عرب کے جہلاءاپنی اولاد کو غیرت و حمیت، اپنی سرداری اور رواداری کیلئے قتل کرتے تھے، لیکن یہ روشن خیال معیشت اور وسائل کی کمی کی فکر میں اپنی اولاد کو قتل کر رہے ہیں۔ بچیوں کے قتل میں بھارت سرفہرست ہے، ایک طرف بھارت بڑے شد و مد سے یہ پروپیگنڈہ کر رہا ہے کہ وہ دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی سب سے بڑی جمہوری مملکت ہے، اس کی معیشت کی روز افزوں ترقی اسے بہت جلد چین سے بھی آگے لے جائے گی، دوسری طرف بھارت اپنے جارحانہ عزائم کی خاطر اپنے اڑوس پڑوس کے چھوٹے ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اپنے وجود میں ہضم کرنے اور اکھنڈ بھارت کے چانکیائی نظریہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لےے دن رات اسلحے کے ڈھیر لگا رہا ہے، روس، فرانس اور برطانیہ کے علاوہ اسرائیل سے جدید سے جدید اسلحہ خرید رہا ہے ابھی حال ہی میں اس نے اسرائیل سے دس ہزار کروڑ کے معاہدے کی منظوری دی ہے۔ اس معاہدے کے تحت دشمن کے طیاروں کو فضا میں 70 کلومیٹر کی دوری سے تباہ کرنے والے میزائل بنائے گا۔
ایک اور معاہدے کے تحت فوجی سیٹلائٹ اسرائیل کے تعاون سے خلاءمیں چھوڑے گا، اسی طرح امریکہ سے جوہری توانائی کے معاہدے سے جہاں وہ ایک لاکھ میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا وہیں این پی ٹی اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں سے باہر رہ کر اپنی ایٹمی قوت کو مضبوط کر کے سپر پاور بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ بھارت کے ان عزائم سے جہاں گردونواح کے ممالک خطرے کی بو سونگھ رہے ہیں وہیں ہندوستان کے اندر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر گجرات اور کشمیر سمیت عرصہ حیات تنگ ہو چکا ہے، اس سے بھی بڑھ کر بھارت کی جو اخلاقی پستی سامنے آئی ہے وہ بڑی تعداد میں بچیوں کا قتل عام ہے بھارتی مائیں اب یوں دعائیں کرتی ہیں :
پر بھو میں تیری بلتی کروں پیاں پڑوں بار بار
اگلے جنم موہے بیٹا نہ دیجیو نرکھ بچے چاہے دھار

یعنی بھگوان میں تجھ سے گزارش کرتی ہوں، آپکے قدموں میں گر کر التجا کرتی ہوں کہ چاہے مجھے جہنم میں ڈال دینا لیکن مجھے اگلے جنم میں بیٹی نہ دینا۔
بھارت میں ماضی سے حالت تک کا سفر کچھ زیادہ مختلف نظر نہیں آ رہا، شادی کے بعد ہندو مت میں عورت شوہر کی ملکیت بن جاتی ہے۔ ساری زندگی اس کی حیثیت کنیز اور دیوداسی کی ہوتی ہے اور شوہر کی موت کے ساتھ اسے زندہ درگور کر دیا جاتا، بلکہ آج کے تعلیم یافتہ ہندوستان میں بھی سستی موجود ہے۔ اس سے بڑھ کر بچیوں کو ممتا سے چھین کر موت کی نیند سلانا ایک اذیت ناک مرحلہ ہے، بھارت میں رہنے والی ماں کی حیثیت زندہ لاش کی سی ہے، اسے اپنی خوشی اور مسکراہٹ ہی قربان نہیں کرنا پڑ رہی، اکثر اپنے آنسو بھی قربان کرنا پڑ رہے ہیں، وہ اپنے ہی وجود کے ٹکڑوں کو ایسی موت مرتا دیکھ رہی ہےں کہ سنگدل سے سنگدل ماں بھی بلک بلک کو رو پڑے، لیکن وہ مجبور چپ سادھے دیواروں کو تکتی رہتی ہے۔ اس کی بے بسی دیکھ کر لگتا ہے کہ اس کی آنکھوں کے سوتے خشک ہو گئے ہیں۔ بھارت کی ہر عورت کے سینے میں بچیوں کے قتل کی ایسی ایسی المناک لرزہ خیز داستانیں دفن ہیں کہ اگر وہ منظر عام پر آ جائیں تو ساری دنیا کی فضا سوگوار ہو جائے۔
میرپور کی پچیس سالہ سرلا دیوی نے شوہر کے ایماءپر اپنا چھ ماہ کا حمل اس لےے ختم کرا دیا کہ رحم مادر میں بیٹی پرورش پا رہی تھی، اس نے سرد آہ بھر کر کہا : میری بچی ادھورے جسم کے ساتھ تقریبا روزانہ ہی میرے خواب میں آتی ہے، میری جانب ہاتھ بڑھاتی ہے لیکن جیسے ہی میں اسے اپنے ہاتھوں میں لینے کیلئے آگے بڑھتی ہوں وہ غائب ہو جاتی ہے، اس خواب نے میرا رہا سہا سکون بھی ختم کر دیا، مجھے اس گناہ کی سزا مل رہی ہے جو میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔ سرلا دیوی نے یہ بات بھارت کے ایک معروف میگزین انڈیا ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے بتائی، سرلا نے مزید کہا کہ میرے خاندان کی پچاس عورتوں کو جب علم ہوا کہ وہ بے بی کی ماں بنیں گی تو انہوں نے فوراً حمل ضائع کرا دئیے دس عورتوں کو بچیوں کے ساتھ اپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھونے پڑے، سرلا دیوی میرپور کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتی ہے جہاں پانچ سو لڑکے اور صرف دس لڑکیاں ہیں، یہ صرف یو۔ پی کے ضلع میرپور کی جیتی جاگتی کہانی نہیں ہے۔ بھارت کے ایک ایک علاقے گاؤں یا گھر میں جنین کا قتل ہو رہا ہے۔
انڈیا ٹوڈے میں بھارتی خاتون صحافی دھال برگ نے تامل ناڈو کا ایک افسوسناک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ لکشمی چار سالہ بیٹے کی ماں تھی کہ اس نے بیٹی کو جنم دیا، تین دن بچی زندہ رہی مگر ماں نے اسے لاوارثوں کی طرح بستر پر پڑے رہنے دیا، جب بچی بھوک سے نڈھال ہو کر زور زور سے رونے لگی تو لکشمی جھاڑیوں سے دودھ نکال کر لائی اس میں ارنڈی کا تیل ملا کر بچی کو پلایا، چند گھونٹ پینے کے بعد بچی کی ناک سے خون بہنے لگا اور وہ منٹوں میں مر گئی، لکشمی کی پڑوسنوں نے بچی کو اسکے گھر کے ایک کونے میں دفن کر کے لکشمی سے کہا تم نے اسے زندہ پیدا ہی کیوں کیا؟ جب 28 سالہ لکشمی سے پوچھا کہ ایک ماں ہوتے ہوئے تم نے کس طرح اپنی بچی کو اپنے ہاتھوں سے مار دیا؟ تو اس نے جواب دیا کہ ” جیسی تکالیف میں اٹھا رہی ہوں جو صعوبتیں میں برداشت کر رہی ہوں انہیں دیکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ بہتر ہو گا میں اپنی بیٹی کو ختم کر دوں تا کہ زندگی کے تمام جھنجھٹوںاسے ہمیشہ کیلئے نجات مل جائے، لکشمی نے مزید کہا : کہ اگر میرے ہاتھ میں رقم ہوتی تو میں الٹرا ساؤنڈ کرا کر اسے ختم کرا دیتی، اسے دنیا میں آنکھ کھولنے ہی نہ دیتی۔
25 سالہ پر بھاکی کہانی ان ہزاروں عورتوں کی طرح افسوسناک ہے جنہوں نے اپنے ہی جگر کے ٹکڑوں کو اس لےے قتل کیا کہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی بچیاں ظالم دنیا میں آنکھیں کھولیں اور ساری زندگی روتی دھوتی رہیں، پر بھاکی شادی بیس سال کی عمر میں پچاس سالہ رنڈوے سے ہوئی، اکیس سال کی تھی کہ بیٹی کی ماں بنی، جب اس نے اپنی بیٹی کو دیکھنے کے لےے کہا تو ڈاکٹر نے کہا : تمہاری بیٹی ہوتے ہی مر گئی، جب وہ ہسپتال سے خالی گود لےے اجڑی اجڑی باہر آئی تو ایک نرس نے اسے چپکے سے بتایا کہ تمہارے شوہر نے بچی کی ناک میں پانی ڈال کر اسے جان بوجھ کر مارا ہے، شوہر سے کچھ پوچھنے کی اس میں ہمت نہ تھی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کا شوہر لفظ بیٹی ہی سے نفرت کرتا ہے، وہ اس کا وجود کیسے برداشت کرتا، جب دو سال بعد وہ دوبارہ امید سے ہوئی اور اسے علم ہوا کہ اس بار بھی بیٹی پیدا ہوتی تو اس نے ڈاکٹر سے کہا میری بچی ختم کردو، یوں ایک بیٹی باپ نے قتل کی اور دوسری ماں نے۔
ریاست آندھرا پردیش میں ایک شخص نے اپنی نواسی کو زندہ دفن کر دیا۔ ضلع محبوب نگر کی پولیس کے سربراہ چادو سنہانے میڈیا کو بتایا کہ ایک عورت جس کا خاوند مہارا شٹر میں ملازمت کرتا ہے اس عورت کے ہاں آٹھویں بیٹی پیدا ہوئی تو بچی کے نانا نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر نوزائیدہ کی ماں کے مشورے پر بچی کو زندہ کھیتوں میں دفن کر دیا، جب کچھ دیر بعد رام کمار نامی ایک کسان اپنے کھیت گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک بچی کا ہاتھ زمین سے باہر نکلا ہوا ہے گاؤں والوں کی مدد سے اسے نکالا گیا اور ہسپتال داخل کرایا گیا پولیس کے مطابق بچی کافی کمزور تھی، ایسا محسوس ہوتا تھا اسے پیدائش کے بعد دودھ ہی نہیں پلایا گیا۔
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے ایک ڈاکٹر نے 260 بچیوں کو پیدائش سے قبل ضائع کرنے کا اعتراف کیا ہے مذکورہ ڈاکٹر کو کچھ عرصہ قبل ناجائز اسقاط حمل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اس کے کلینک کے قریب زیر زمین ٹینک سے بچیوں کی باقیات بھی برآمد کی گئی ہیں، ڈاکٹر اے۔ کے سنگھ کے پاس الٹرا ساؤنڈ ٹیسٹ کیلئے لائسنس بھی نہیں ہے، اور نہ ہی یہ ڈاکٹر سند یافتہ ہے، وہ اپنی بیوی کی مدد سے جو ایک قابل نرس ہے اسقاط جنین کرتا رہا، ایسے ہی ڈاکٹروں سے جنین کو ضائع کرانے والی عورتوں میں سے تین سو روزانہ موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔

اسلام میں کھیل / تفریح کی اجازت ...!

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے :
'' اپنے دلوں کو وقتاً فوقتاً لذت و آرام پہنچایا کرو ۔''

اسی لیے بلند پایا صحابی حضرت معاذ بن جبل(رضی اللہ عنہ) فرمایا کرتے تھے :
'' میں اپنے سونے پر بھی اللہ تعالیٰ سے اسی طرح اجر چاہتا ہوں جس طرح اپنی بیداری پر ۔ ''

اصولی طور پر اسلام نے ہر اس کھیل کی اجازت دی ہے جس سے کسی شرعی ممانعت کا ارتکاب نہ کرنا پڑتا ہو ۔ اور جو انسانی نسل کے لیے مہلک اور محزب اخلاق نہ ہوں۔
چنانچہ خود رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی اور صحابہ(رضوان اللہ عنہم) کے عمل سے کشتی ، تیراکی ، گھوڑ دوڑ میں مقابلہ ، کھلونے سازی ، دوڑ مقابلہ ، علمی مقابلہ وغیرہ کی اجازت کا ثبوت حدیث کی کتابوں سے ملتا ہے ۔

البتہ ایسے کھیل کود کی ممانعت ہے ...
٭ جس میں شرط رکھ کر اسے قمار بازی کا وسیلہ بنا لیا گیا ہو۔
٭ جس میں مرد و عورت کے درمیان اختلاط لازم آتا ہو۔
٭ ستر پوشی کی شرائط جس میں ملحوظ نہ رکھی جاتی ہو۔
٭ جس میں مشغول ہو کر نماز اور دوسرے فرائض سے انسان غافل ہو جاتا ہو۔
٭ جس میں خود اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا جاتا ہو۔ (مثلاً : فری اسٹائل کشتی)
٭ جس میں کسی ذی روح جانور کو تختہ ئ مشق بنایا جاتا ہو۔ (مثلاً : بیلوں اور دیگر جانوروں کے درمیان جان لیوا مقابلے)

اس کے علاوہ بھی ... جہاں تک عام گانے ، فحش گانے ، بے حیائی پر مبنی فلمیں ، انٹرنیٹ کی فحش تصاویر / فلمیں ، ساز و آواز کی دنیا کا تعلق ہے ... تو یہ تمام انسانی نسل کے لیے وبائی مرض کی طرح ہیں اور بلاشبہ اسلام میں یہ سب ناجائز ہیں !
اسلام نے اچھے کھیلوں اور تفریحات کی اجازت دی ہے ... لیکن ، زندگی محض کھیل کود کی نذر کر دینا کسی عاقل کا کام نہیں ہو سکتا۔ کامیاب شخص تو وہی ہے جو زندگی کے لمحات کو بامقصد کاموں میں احتیاط کے ساتھ گزارے ۔

Monday, January 31, 2011

اللہ کا صبر


عن ابی موسی الاشعری رضی اللہ عنہ قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ما احد اصبر علی اذی سمعہ من اللہ یدعون لہ الو لد ثمی یعا فیہم ویرزقہم ( رواہ البخاری )

حضرت ا بو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکلیف دہ بات سن کر صبر کرنے والا اللہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں ہے مشرک کہتے ہیں اللہ کی ا ولاد ہے مگر وہ ان کی ان باتوں کے باوجود انہیں عافیت میں رکھتا ہے اور روزی عطا فرماتا ہے ۔ ( بخاری ) 
اللہ تعالیٰ بلند حوصلے اور عظیم مرتبے والا ہے بندوں کے بڑے بڑے گناہوں پر انہیں معاف کردیتا ہے ان کے عیب چھپاتا ہے قرآن پاک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے بہت سے گناہوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ان سے در گزر کرتا ہے اور فرمایا جوکوئی تمہیں پریشانی لاحق ہوتی ہے وہ تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے لیکن جب اس کے بندے اس کی ذات میں کسی کو شریک بناتے ہیں توا سے یہ سخت ناگوار ہوتا ہے وہ ارشاد فرماتا ہے کہ انسان مجھے جھٹلاتا بھی ہے اور مجھے گالیاں بھی دیتا ہے ۔ حالانکہ اسے یہ حق نہیں پہنچتا ۔ اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ ہمیں مرنے کے بعد زندہ کرکے اٹھایا نہیں جائے گا حالانکہ یہ کام میرے لئے مشکل نہیں ہے اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میری اولاد ہے حالانکہ نہ میری اولاد ہے نہ والدین ۔

بخاری شریف کی اس روایت میں بھی اللہ نے یہی فرمایا ہے کہ اللہ سے زیادہ کوئی بھی صبر کرنے والا نہیں ہے ۔ اللہ کا شریک بنانے کے باوجود وہ صبر کرتا ہے اور اس کا حوصلہ بہت ہی بڑا ہے ۔ بندے فرشتوں کو اللہ کی اولاد سمجھتے ہیں حالانکہ اس کی کوئی اولاد نہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس قدر مہربان ہے کہ یہ سن کر بھی انہیں عافیت دیتا ہے اور انہیں رزق دیتا ہے ۔ دنیا میں کوئی شخص اگر کسی کی نافرمانی کی بنا پر ناراض ہوجائے تو وہ تمام وسائل روک لیتا ہے اور جس حد تک وہ تکلیف دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اپنے مخالف کو تکلیف دینے سے گریز نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ ہر شخص کی خبر گیری بھی کرتا ہے ۔ انہیں رزق بھی دیتا ہے اس کی اس عنایت پر غفلت کا شکار ہونے کے بجائے اس کی بندگی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہوجائے اور قیامت کے روز عذاب سے بچالے۔

مبلغ اور داعی کے اوصاف


دعوت: عربی لغت کے اعتبار سے ( دعا ) کا مصدر ہے ۔ جس کا لغوی معنیٰ نداء، طلب ، قرض ، مذہب اور نسب وغیرہ ہے ۔ نیز دعاۃ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو ہدایت یا ضلالت کی دعوت دیتے ہیں ۔ اس کا واحد ” داعی “ ہے ۔ اور اس کو داعیۃ بھی بولتے ہیں اور اس میں ” ۃ “ مبالغہ کے لیے ہے ۔

دعوت کا اصطلاحی مفہوم:

دائرہ اسلام میں داخل ہونے اور اس پر کاربند رہنے کی طلب کو دعوت کہتے ہیں ۔ انسانوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کی رحمت و سنت اور عدل و انصاف یہی رہا ہے کہ وہ اتمام حجت کئے بغیر کسی قوم کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا ۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 
وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا ( الاسرائ:15 ) ” جب تک ہم رسول مبعوث نہ کریں ہم عذاب نہیں دیتے ۔ “

بنابریں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انبیاءو رسل علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور معجزات کے ذریعے ان کی تائید فرمائی ۔ اور کتب نازل فرمائیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 
رسلا مبشرین ومنذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل ( النسائ:165 ) ” رسول بشارت دینے والے اور ڈرانے والے تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں حجت نہ رہے ۔ “

اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی تو تمام لوگوں کو ہدایت و رہنمائی کے لیے مبلغین کرام ، داعیان عظام مہیا فرماتا جو انہیں مقصد حیات سے آگاہ کرتے اور علی وجہ البصیرت بندگی رب سے آشنا کرتے تا کہ انہیں دو جہانوں کی سعادت نصیب ہو ۔ ان حقائق کی بدولت واضح ہوتا ہے کہ انسانوں کو خوردونوش سے بھی زیادہ دینی دعوت و تبلیغ کی ضرورت ہوتی ہے ۔

دعوت الی اللہ کا شرعی حکم:

ارشاد ربانی ہے: 
ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر واولئک ھم المفلحون( آل عمران: 104 ) 
” اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی دعوت اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ “ 
کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتومنون باللہ ( آل عمران: 110 ) 
” تم بہترین امت ہو جو انسانوں کے لیے نکالی گئی ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ۔ “

ارشاد باری تعالیٰ ہے: 
ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ ( النحل: 125 ) 
” اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھے وعظ کے ساتھ دعوت دیں ۔ “

نیز فرمایا: 
ومن احسن قولا ممن دعا الی اللّٰہ وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین ( فصلت:33 ) 
” اور کون ہے زیادہ اچھا قول میں اس شخص سے جس نے اللہ کی طرف دعوت دی اور نیک اعمال کےے اور کہا کہ بلاشبہ میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔ “

احادیث نبویہ:

(( بلغوا عنی ولو آیۃ )) ( رواہ البخاری ) 
” میری طرف سے تبلیغ کرو خواہ ایک آیت ہی ہو ۔ “

نیز فرمایا کہ: 
(( لیبلغ الشاھد الغائب )) ( رواہ البخاری ) 
” جو حاضر ہے وہ غائب ( غیر حاضر ) تک ( دین کی ) تبلیغ کرے ۔ “

فرمایا: 
(( من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان )) ( رواہ مسلم ) 
” تم میں سے جو منکرات دیکھے اس کو چاہیے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر استطاعت نہ ہو تو زبان کے ساتھ روکے اگر اتنی استطاعت بھی نہ ہو تو دل کے ساتھ ( برا جانے ) اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے ۔ “

دعوت دین کا ذمہ دار کون ہے:

دعوت دین کی ذمہ داری ہر مسلمان مرد اور عورت پر عائد ہوتی ہے ۔ وہ معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں سے لوگوں کو روکے ۔ اتنی تبلیغ کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ داعی دینی علوم پر مکمل عبور رکھتا ہو ۔ ایسے شخص کو دین کی جزئیات پر بحث نہیں کرنی چاہیے ۔ اور نہ ان کی دعوت پیش کرنی چاہیے تا کہ یہ اپنی لاعلمیت کی بنا پر غلط بات نہ کہہ دے کہ جس پر عمل کرنے سے دوسرے لوگ گمراہ ہو جائیں اور ان کا وبال بھی اسی کے سر پر ہو ۔ کیونکہ یہ علماءکرام کے منصب کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے وسیع علم اور ایمانی بصیرت کی بنیاد پر دینی مسائل کی جزئیات کو بیان کریں اور دشمنان اسلام کی جزئیات کو بھی بیان کریں ۔ غلو پسندوں کے مبالغہ کا رد کریں ۔

دعوت کے اہداف اور اصول:

درج ذیل سطور میں دعوت کے اہداف اور اصول کا خلاصہ پیش کرتے ہیں ۔
Œ مقصد تخلیق انسانیت کو پورا کرنا اور وہ ہے اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرنا جیسا کہ فرمان ربانی ہے: وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون
 اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس اور اس کے اسماءحسنی ، اس کی صفات جلیلہ اور اس کے افعال کاملہ کی معرفت اور پہچان اور شرک کی تمام صورتوں سے اجتناب کے لیے لوگوں کی رہنمائی کرنا ۔
Ž لوگوں کو دینی احکام کی تعلیمات دینا اور ان میں تفقہ فی الدین کا ملکہ پیدا کرنا تا کہ وہ علی وجہ البصیرت اپنے رب تعالیٰ کی عبادت کر سکیں ۔
 انسانیت کو تباہی اور بربادی سے بچانا کیونکہ انسان محض اپنی عقل اور خواہش کے بل بوتے پر نقصان دہ امور سے محفوظ نہیں رہ سکتا ۔ یہ شریعت الٰہی کا خاصہ ہے کہ اس کے اصول و قوانین اور حلال و حرام کے ضابطے اپنے پیروکار کو صلاح و فلاح اور سعادت و عزت کی ضمانت فراہم کرتے ہیں ۔
 تا کہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اضافہ ہو ۔
 ‘ تا کہ عاملین دین کی تعداد میں اضافہ اور منحرفین اور نافرمان لوگوں کی تعدادمیں کمی ہو سکے ۔
 ’ اسلام کی خوبیوں کو اجاگر کرنا اور اس کی جامعیت اوربارگاہ الٰہی میں مقبولیت کو واضح کرنا اور آخری دین ہونے کی انفرادی شان کو ظاہر کرنا ۔

دعوت کے اسلوب:

اسلوب سے مراد دعوت و تبلیغ کا طریقہ کار ہے ۔ دینی دعوت و تبلیغ کے متعدد اور متنوع طریقے ہیں ۔ جو کہ مبلغین اور عوام کی مناسبت سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ بعض اوقات دعوت کا ایک انداز کسی انسان پر موثر ہوتا ہے جبکہ دوسرے انسان پر موثر نہیں ہو پاتا ۔ تبلیغ کا ایک طریقہ ایک دور میں بہت اثر انگیز ہوتا ہے جبکہ دوسرے دور میں وہی طریقہ کار گر نہیں ہوتا ۔ چنانچہ ایک مبلغ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ان امور کو ملحوظ رکھے
اس ضمن میں فرمان الٰہی کس قدر جامع ہے: 
ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتی ھی احسن ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بالمھتدین ( النحل: 125 ) 
مبلغ کو دعوت و تبلیغ کے اسلوب اور طریقے سیکھنے کے لیے درج ذیل بنیادی مصادر سے استفادہ کرنا چاہیے ۔ 
Œ
 قرآن 
 سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم Ž
 سیرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین 
 سیرت تابعین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ

دعوت الی اللہ کی فضیلت:

دعوت و تبلیغ جہاں پر امت مسلمہ کے ہر فرد پر فرض ہے وہاں بارگاہ الٰہی سے بے شمار انعامات جلیلہ کے حصول کا ذریعہ بھی ہے ۔ تبلیغ دین پاکباز انبیاءو رسل علیہم السلام کی ذمہ داری ہے ۔ جو کہ انذار وتبشیر کے اسلوب کے ساتھ انسانوں کو دین الٰہی کی دعوت دیتے رہے ۔ تاکہ اتمام حجت ہو جائے اور سید الانبیاءاور خاتم المرسلین جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فریضہ منصبی بھی دینی دعوت و تبلیغ ہی تھی ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تاقیامت پیروکاروں کا منہج یہی تبلیغ ہے ۔
مبلغین اور دعاۃ کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا اعزاز ہو گا کہ جس فریضہ کو انبیاءو رسل علیہم السلام ادا فرماتے تھے آج اللہ تعالیٰ نے وہ ان کے کندھوں پر ڈال دیا ہے اور وہ وادی ضلالت میں بھٹکنے والوں کو راہ نجات کی طرف بلاتے ہیں اور دل کے اندھوں کو بصیرت کا حامل بنا رہے ہیں ۔ ابلیس کے شکار زدہ کتنے ہی افراد کو مبلغین کرام نے تبلیغ سے نئی زندگی سے آشنا کر دیا ۔ اور کتنے ہی بھٹکتے ہوئے افراد کو راہ ہدایت دکھائی ۔ تبلیغ درحقیقت جہاد فی سبیل اللہ بلکہ اکثر اوقات تقریر کا جہاد شمشیر کے جہاد سے زیادہ موثر ہوتا ہے ۔ دعوت حق بکثرت ذکر الٰہی کرنے اور درود و سلام پڑھنے کا اہم ذریعہ ہے کیونکہ کوئی خطبہ ، تقریر ، دینی لیکچر خواہ وہ کس قدر مختصر ہی کیوں نہ ہو ، ذکر الٰہی اور درود و سلام سے خالی نہ ہو گا اور یہ ایک داعی حق کے لیے کتنے شرف کی بات ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کلمہ حق کہنے کی توفیق بخشے اور اس کے کلمہ خیر کو شرف قبولیت سے نوازے ۔

داعی کے اوصاف

ایک مبلغ کے لیے عام لوگوں کی نسبت زیادہ ضروری ہے کہ وہ اسلامی اوصاف ، دینی ، اخلاقی آداب سے متصف ہو کیونکہ داعی اور مبلغ کا باعمل ہونا دعوت و تبلیغ کے لیے موثر ہونے میں فیصلہ کن کردار کی حیثیت رکھتا ہے ۔ درج ذیل سطور میں بعض اوصاف کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ۔

1 ۔ اخلاص:

اخلاص دین اسلام کی اساس و بنیاد ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اخلاص کا پابند بنایا ہے کوئی عمل خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اس کو ادا کرنے والا کس قدر قربانی کیوں نہ پیش کرے اگر اس میں اخلاص نہ ہو تو وہ مردود ہوتا ہے ۔ اس حدیث نبوی کا مطالعہ فرمائیں جس میں ان تین بدنصیب اشخاص کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کے ساتھ آتش جہنم کو بھڑکایا جائے گا ( العیاذ باللہ ) وہ قاری قرآن ، سخی اور مجاہد ہوں گے جنہوں نے اپنی جان و مال اور وقت کی قربانی پیش کی ہو گی جو انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے لیکن ان تینوں کی نیکیاں عدم اخلاص کی وجہ سے قبول نہ ہوں گی ۔

2 ۔ شرعی علم:

اخلاص اور علم شرعی ایک مبلغ اور داعی کا اصل سرمایہ ہوتا ہے جس کی نشاندہی اللہ تعالیٰ نے اس طرح سے فرمائی ہے: 
قل ھذہ سبیلی ادعو الی اللہ علی بصیرۃ ( یوسف: 108 ) ” کہہ دیجئے یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بصیرت کے ساتھ دعوت دیتا ہوں ۔ “

یعنی امور دنیا یا خواہشات نفس کی طرف نہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہوں اور بصیرت کے ساتھ دعوت حق پیش کرتا ہوں اور بصیرت شرعی علم کا نام ہے جو کتاب و سنت اور طریقہ سلف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ پر مبنی ہے ۔ پس دعوت حق علم سے عاری مجرد جوش و جذبہ کا نام نہیں بلکہ ایک مبلغ کے لیے از حد ضروری ہے کہ وہ دینی علوم سے بہرہ ور ہو ، صحیح عقیدہ ، سنت مطہرہ ، سیرت نبوی ، تاریخ اسلام اور دیگر دینی علوم و فنون کی معلومات رکھتا ہو اس کا وعظ و تقریر کتاب و سنت کے دلائل سے مزین ہو ۔
فرمان ربانی ہے: 
فذکر بالقرآن من یخاف وعید ( ق: 45 ) 
” قرآن کے ساتھ نصیحت کرو جو میری وعید سے ڈرتا ہے ۔ “

3 ۔ تقویٰ:

تقویٰ کی خوبی ایک مبلغ کا نفع مند زاد راہ اور میدان تبلیغ کی تمام مشکلات کا کامیاب علاج ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 
وتزودوا فان خیر الزاد التقویٰ ( البقرۃ: 197 ) 
” اور زاد راہ پکڑو بلاشبہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے ۔ “

تبلیغ کا معاوضہ طلب نہ کرنا:

یہ تمام انبیاءکرام ورسل علیہ السلام کا طرہ امتیاز تھا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 
ویاقوم لا اسالکم علیہ مالا ان اجری الا علی اللّٰہ ( ھود:29 ) 
” اے میری قوم میں تم سے اس ( تبلیغ ) پر مال نہیں مانگتا میرا اجر نہیں مگر اللہ پر ۔ “

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: 
ازھد فی الدنیا یحبک اللہ وازھد فیما فی ایدی الناس یحبوک ( ابوداود ) 
” دنیا سے بے نیازی کرو تو اللہ تمہارے ساتھ محبت کرے گا اور لوگوں کی چیزوں سے بے نیاز ہو جاؤ تو لوگ تمہارے ساتھ محبت کریں گے ۔ “ 
داعی حق کے لیے لازمی ہے کہ وہ آخرت کی کامیابی کو دنیا پر ترجیح دے اور لوگوں کی چیزوں سے امیدیں وابستہ نہ کرے ۔

نرم اسلوب اختیار کرے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: 
(( ان اللّٰہ یحب الرفق فی الامر کلہ )) ( صحیح البخاری ) 
” بے شک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے ۔ “

اسی طرح فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: 
(( ان الرفق لا یکون فی شی الا زانہ ولا ینزع من شی الا شانہ )) ( مسلم ) 
” جس معاملے میں نرمی ہو وہ اسے مزین کر دیتی ہے اور اگر نرمی نکل جائے تو اسے بدنما کر دیتی ہے ۔ “

مجمع شناسی:

مبلغ کے لیے لازمی ہے کہ وہ مجمع شناس ہو ، سامعین کی علمی اور ذہنی استعداد کے مطابق گفتگو کرے جناب علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: 
(( حدثوا الناس بما یعرفون اتحبون ان یکذب اللہ ورسولہ )) ( بخاری ) 
” لوگوں کی معرفت کے مطابق ان سے گفتگو کرو ( وگرنہ ) کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی جائے ۔ “ 
جناب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 
(( ما انت بمحدث قوما حدیثا لا تبلغہ عقولھم الا کان لبعضھم فتنۃ )) ( مسلم ) 
” اگر تم کسی قوم کی ذہنی استعداد سے بالا گفتگو کرو تو ان میں سے بعض فتنے میں مبتلا ہو جائیں گے ۔ “

مسلسل محاسبہ نفس:

مبلغ کا مسلسل محاسبہ نفس کرنا اور میدان دعوت میں اپنے وسائل و ذرائع اور نتائج و ثمرات پر بار بار نظرثانی کامیابی کی ضمانت ہے ۔ مبلغ کو اپنے نقائص و عیوب پر نظر رکھنی چاہیے اور ان کو دور کرنے کے لیے جستجو کرتے رہنا چاہیے ۔
ارشاد ربانی ہے: 
یا یھا الذین آمنوا اتقوا اللّٰہ ولتنظر نفس ما قدمت لغد واتقوا اللّٰہ ان اللّٰہ خبیر بما تعملون ( الحشر:18 ) 
” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور ہر نفس دیکھے کہ اس نے کل ( آئندہ ) کے لیے کیا بھیجا ہے اللہ سے ڈرتے رہو اور یقینا اللہ تعالیٰ باخبر ہے جو تم عمل کرتے ہو ۔ “

تنظیم اوقات کار:

ہم اپنے مال و دولت کے متعلق جس قدر حریص ہیں اس سے بڑھ کر سلف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ اپنے اوقات زندگی کی حفاظت کرتے تھے کیونکہ لمحات زندگی ایسی دولت ہے جو جانے کے بعد لوٹا نہیں کرتے اور ہم سب وقت کی اہمیت کو جانتے ہیں لیکن پھر بھی ہماری حالت تعجب خیز ہے کہ اوقات کار کی تنظیم و ترتیب کے بجائے فضول اور بے مقصد کاموں میں قیمتی لمحات زندگی ضائع اور برباد کر دیتے ہیں ۔

تالیف قلبی:

مبلغ کا فرض ہے کہ وہ عوام کی تالیف قلبی کے لیے ہاتھ کھلا رکھے اور اپنے اثر و رسوخ کے ساتھ ان کے مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرتا رہے کیونکہ اس طرز عمل کا لوگوں پر بہت بڑا اچھا اثر پڑتا ہے ویسے بھی کرم نوازی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کریم کرم کو پسند کرتا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر غرباءاور نادار افراد اور نو مسلموں کے ساتھ خلق عظیم کا برتاؤ فرماتے تھے ۔

لوگوں سے میل جول:

لوگوں سے میل جول رکھنا اور خود ان کے پاس چل کر جانا اور انہیں دعوت اسلام دینا خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم موسم حج میں بالخصوص اور عام دنوں میں بھی مکہ مکرمہ میں آنے والے عرب وفود سے ملاقاتیں کرتے اور ان کے سامنے دعوت اسلام پیش کرتے تھے کیونکہ دینی دعوت کی مثال باران رحمت جیسی ہے جو ہر جگہ دوست اور دشمن پر برستی ہے ۔

پروٹوکول کی دیواریں:

پروٹوکول کی دیواریں کھڑی کرنا اور عوام کی دسترس سے باہر ہو جانا ان کے لیے ملاقات کا طریقہ مشکل بنا دینا ایک داعی حق کے لیے مناسب نہ ہوگا کیونکہ لوگوں کا جسمانی غذا سے زیادہ روحانی غذا کے حصول کے لیے مبلغ دین کو اہم معاملے کا ادراک کرتے ہوئے اپنے آپ کو عوام کے لیے نرم خو اور ان کے قریب تر کرنا چاہیے ۔ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ کس قدر عظیم ہے کہ بسا اوقات کوئی لونڈی حاضر خدمت ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اپنے کام کاج کے لیے لے جاتی ۔

بلند ہمت ہونا:

ایک داعی کے شایان شان ہے کہ وہ بلند ہمت ، متحرک اور سخی ہو اور اپنے آپ کو امت کی خیر خواہی کا ذمہ دار سمجھے ۔ اعلیٰ اہداف کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھے اس ضمن میں حد درجہ حریص ہونا ایک داعی حق کا طرہ امتیاز ہوتا ہے کیونکہ مومن خیر اور بھلائی سے کبھی بھی سیر نہیں ہوتا ۔ رحمن کے پاک باز بندوں کی شان قرآن میں یوں بیان کی گئی ہے: 
والذین یقولون ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریاتنا قرۃ اعین واجعلنا للمتقین اماما ( الفرقان:74 ) اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی توفیق اور اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔ آمین


صابر انبیاءکرام علیہ السلام



واسمٰعیل وادریس وذا الکفل کل من الصبرین oوادخلنہم فی رحمتنا انہم من الصالحین o ( الانبیاء )
” اور اسماعیل اور ادریس اور ذو الکفل سب صبر کرنے والے تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے “۔ 
تلاوت کردہ آیات میں اللہ نے تین اولوالعزم انبیاء کرام علیہ السلام کا تذکرہ فرمایا ہے حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند ارجمند ہیں جنہیں پیدائش کے بعد اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے والدہ حضرت ہاجرہ کے ساتھ ویران وادی میں چھوڑ دیا تھا ۔ پانی کی تلاش میں اماں ہاجرہ کا صفا اور مروہ پر دوڑنا اور آب زمزم کا چشمہ اسی دور کی یاد گار ہیں جب ذرا چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو اللہ کے حکم سے باپ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری چلادی قربانی اسی امتحان کی یاد گار ہے پھر اللہ کے حکم سے باپ بیٹے نے مل کر بیت اللہ کی تعمیر کی جو کہ ہمارا قبلہ ہے اور تمام مسلمانوں کا قبلہ ہے جہاں ہر سال لاکھوں مسلمان حج کا فریضہ ادا کرنے کے لئے جاتے ہیں ۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر 136 سال تھی ان کی اولاد حجاز ، شام ، عراق ، فلسطین اورمصر تک پھیلی ........ حضرت ادریس علیہ السلام کا تذکرہ قرآن پاک میں سورۃ مریم اور سورۃ انبیاءمیں آیا ہے ۔سورۃ مریم میں ہے کہ آپ بلا شبہ سچے نبی تھے ہم نے ان کو بلند مقام عطا کیا ۔ صحیح ابن حبان کے مطابق آپ نے سب سے پہلے قلم استعمال کیا ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی کو اللہ نے ایسا علم دیا تھا جو لکیریں کھینچ کر حساب لگاتے تھے جسے رمل وغیرہ کہتے ہیں ۔ معراج کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت ادریس علیہ السلام سے چوتھے آسمان پر ہوئی کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ حضرت نوح علیہ السلام کے جد امجد ہیں ان کا نام اخثوع اور ادریس لقب ہے ۔ آپ کی عمر 82سال تھی ........ذوالکفل علیہ السلام کے متعلق قرآن پاک میں ان کے نام کے سوا کچھ ذکر نہیں اور حدیث میں بھی کوئی تذکرہ نہیں ملتا صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ ذو الکفل اللہ کے برگزیدہ نبی اور رسول تھے اور کسی قوم کو ہدایت کےلئے مبعوث ہوئے تھے ۔
البتہ تاریخی لحاظ سے جو کچھ معلومات ملتی ہیں ان کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ جب بنی اسرائیلی نبی حضرت الیسع بہت بوڑھے ہوگئے تو انہوں نے قوم سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں ایک ایسے شخص کو جوشب زندہ دار ، دن کو روزہ رکھنے والا اور کبھی غصہ نہ کرنے والا ہو اپنا نائب بنانا چاہتا ہوں تو ذو الکفل نے کہا میں حاضر ہوں تو انہوں نے آپ کو اپنا خلیفہ نامزد کردیا اسی لئے بعض مورخین کا خیال ہے کہ آپ نبی نہیں بلکہ ایک نیک اور مصلح شخص تھے ۔

اسلام کا شورائی نظام



اسلامی نظامِ حکومت اور اسلامی سیاست کا دوسرا بنیادی اصول ” شوریٰ “ ہے ۔ یعنی سربراہ ریاست کا تقرر بھی مسلمانوں کے معتمد نمائندوں پر مشتمل مجلس شوریٰ کرے گی ۔ اور تقرری کے بعد بھی تمام اہم فیصلے شوریٰ کی منظوری سے کئے جائیں گے ۔ آج کل مسلمان ماہرین سیاست شورائیت کو اسلامی جمہوریت کہتے ہیں ۔ عربی زبان و ادب اور حدیث و فقہ کی کتب میں لفظِ جمہور غلبے اور اکثریت کے معنوں میں آتا ہے ۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں ایک روایت نقل کی ہے جس میں ” فی الجمہور عن العرب “ کے الفاظ آئے ہیں ۔ ( ترمذی شریف ، ابواب الفتن باب ماجاءان الخلفاءمن قریش )
لیکن دور حاضر کی مروجہ جمہوریت کا مفہوم عربی ڈکشنری Dictionry سے نہیں لیا گیا بلکہ ” ڈیموکریسی Democracy کے یونانی لفظ سے لیا گیا ہے ۔ جسکے اصول و ضوابط اسلام کے سراسر خلاف ہیں ۔ اسلامی جمہوریت کی اصطلاح حرام تو نہیں ہے مگر غلط فہمی سے بچنے کیلئے صحیح اسلامی اصطلاح ” شورائیت “ ہے ۔ یہ اصطلاح قرآن و سنت اور خلفاءراشدین کے عین مطابق ہے اور اس سے عوام کے اندر مطلق العنان حاکمیت اور بے قید آزادی کا جاہلانہ تصور پیدا ہونے کا خدشہ بھی نہیں ہے ” سدباب الذریعہ “ یعنی غلط فہمیوں اور برائیوں کے دروازے کو بند کرنا ۔ “ شریعت کا مستقل قاعدہ ہے اس قاعدے کی رو سے جمہوریت کا استعمال قابل ترک ہے اور شورائیت ہی صحیح Correct اور مناسب اصطلاح ہے ۔
شوریٰ کے بارے میں آیات قرآنیہ :
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
(( فَبِمَا رَحمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنتَ لَہُم وَلَو کُنتَ فَظًّا غَلِیظَ القَلبِ لاَنفَضُّوا مِن حَولِکَ فَاعفُ عَنہُم وَاستَغفِر لَہُم وَشَاوِرہُم فِی الاَمرِ )) ( آل عمران : 159 ) 
” پس یہ اللہ کی رحمت ہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نرم دل ہیں لیکن اگر آپ کرخت و سخت دل ہوتے تو لوگ تمہارے پاس سے متفرق و منتشر ہو جاتے ۔ پس ان کو ( جنہوں نے غزوہ احد میں مورچہ چھوڑ دیا تھا ) معاف کر دو اور ان کے لئے اللہ سے مغفرت مانگو اور ان سے ہر اہم معاملہ میں مشورہ کرتے رہو ، پھر ( مشورے کے بعد ) جب تم نے عزم اور ارادہ کر لیا ہو تو اللہ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اس پر بھروسہ کرنے والوں سے ۔ “
ابن منظور اپنی معرکۃ الاراءتصنیف لسان العرب میں لکھتے ہیں ۔
(( الامر نقیض النہی.... والامر الحادثہ )) ( لسان العرب 26, 27/4 مادہ امر ) 
” امر نہی کا مقابل ہے یعنی حکم دینا اور امر کے معنی حادثہ اور واقعہ کے بھی آتے ہیں ۔ “
امام لغت کی اس تشریح سے معلوم ہوتا ہے کہ امر کے معنی حکم اور حکومت بھی آتے ہیں اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حکومت کے معاملات میں اور اہم معاملات میں اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے مشورہ کرتے رہو ۔ امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ امام بغوی رحمہ اللہ ، ابن جوزی رحمہ اللہ ، امام قرطبی رحمہ اللہ ، ابن کثیر رحمہ اللہ اور علامہ آلوسی رحمہ اللہ سب نے اپنی تفاسیر میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ لینے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ امت کیلئے شورائیت کی سنت قائم ہو جائے تا کہ آئندہ امت آمریت کے راستے پر نہ چلے اور شورائیت کے شرعی قاعدے پر سختی کے ساتھ قائم رہے ۔

شوریٰ کے بارے میں احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم :

(( عن علی قال قلت یارسول اللہ ان نزل بنا امر لیس فیہ بیان امر ولا نھی فماتامرنی ؟ قال شاور فیہ الفقہاءالعابدین ولا تمض فیہ رای خاصۃ رواہ الطبرانی فی الاوسط ورجالہ موثقون ))( مجمع الزوائد178/1 )
” حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر ہمارے درمیان کوئی واقعہ رونما ہو جائے جس کے بارے میں نہ کوئی امر ہو اور نہ نہی ہو تو ایسے واقعہ کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا ارشاد ہے ؟ فرمایا اس بارے میں عبادت گزار اور دیانت دار ماہرین شریعت سے مشورہ کر لیا کرو اور انفرادی رائے اختیار نہ کرو ۔ “
حضرت سہل بن سعد الساعدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشورہ کرنے والا کبھی حق سے محروم نہیں ہوتا اور اپنی ذاتی رائے کو کافی سمجھنے والا خوش پسند انسان کبھی سعید نہیں ہو سکتا ۔ ( تفسیر قرطبی251/4 سورۃ آل عمران )
اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تمہارے حکمران تم میں سے بہترین لوگ ہوں اور تمہارے دولت مند لوگ سخی ہوں اور تمہارے معاملات باہمی مشورے سے طے کئے جاتے ہوں تو زمین کی پشت تمہارے لئے اس کے پیٹ سے بہتر ہو گی لیکن جب تمہارے حکمران تم میں سے بدترین لوگ ہوں گے اور تمہارے دولت مند بخیل ہوں گے اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو پھر زمین کا پیٹ تمہارے لئے اس کی پیٹھ سے بہتر ہو گا ۔ ( مشکوٰۃ شریف ، کتاب الرقاق ، باب تغیر الناس )
اس حدیث پاک میں عزت و آرام کی زندگی کیلئے تین چیزوں کو ضروری قرار دیا گیا ہے اور یہی تین چیزیں اسلامی ریاست اور صالح معاشرے کی بنیادی شرطیں ہیں ۔ صالح قیادت ، غریبوں کی کفالت اور شورائیت ۔
(( عن عائشۃ قالت ما رایت رجلا اکثر استشارۃ للرجال من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )) (( ترمذی شریف کتاب الجھاد 241/1 ) 
” حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ لوگوں سے مشورہ کرنے والا ہو ۔ “
علامہ جلال الدین سیوطی متوفی نے ” الخصائص الکبریٰ “ میں ایک باب اس عنوان سے قائم کیا ہے ۔ ” باب اختصاصہ بوجوب المشورۃ “ یعنی مشاورت کا واجب ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں سے ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی خلیفہ بننے کے بعد جو خطبہ ارشاد فرمایا اس میں کہا کہ اگر میں صحیح کام کروں تو میری اطاعت کرنا لیکن اگر میں غلط راستے کی طرف جاؤں تو مجھے ( صلاح مشورہ سے ) سیدھا کر دینا ۔
یوں تو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور عہد خلفائے راشدین شوریٰ کے واقعات سے بھرا پڑا ہے لیکن ہم صرف عہد نبوی کے تاریخی شورائی فیصلوں کے بارے میں ہی بحث کریں گے ۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ (( انی فیما لم یوح الی کاحدکم )) ( مجمع الزوائد کتاب المناقب 46/9 )
” جن معاملات میں وحی نہ آئی ہو ان میں مَیں تمہاری طرح کا انسان ہوں ۔ “
امام جصاص متوفی 370ھ فرماتے ہیں :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشاورت کا حکم ان دینی امور کے بارے میں دیا گیا تھا جن کے متعلق اللہ کی طرف سے واضح ہدایت موجود نہ ہوتی تھی اور ان دنیوی اور انتظامی امور میں بھی مشاورت کا ہی حکم دیا گیا ہے جن کی بنیاد رائے اور ظنِ غالب پر ہوتی ہے ۔ ( احکام القرآن للجصائص40/2 )
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر غیر منصوص اور اہم معاملہ میں مشورہ فرمایا کرتے تھے خواہ وہ امور دینی احکام سے متعلق ہوں ، جنگ سے متعلق ہوں یا پھر ان کا تعلق انتظامی معاملات سے ہو ۔ یہاں پر دس تاریخی مثالیں بطور نمونہ پیش خدمت ہیں ۔ ان میں سے بعض مثالیں ایسی بھی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوریٰ کی رائے کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترک کر دیا ۔
 

1 ۔ شورائے اذان 1ھ :

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدنی دور کے آغاز میں لوگ نماز کے اوقات اپنے اندازے سے متعین کرتے تھے ۔ ایک دن اس کے لئے مشورہ کیا گیا کسی نے یہود کے بوق ( سینگھ میں پھونک مارنا ) کی تجویز دی اور کسی نے نصاریٰ کے ناقوس( بڑی گھنٹی ) کی رائے پیش کی ۔ مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تجویز دی کہ ایک شخص کو مقرر کیا جائے جو نماز کے اوقات میں بلند آواز سے لوگوں کو بلائے ۔ چنانچہ اسی پر فیصلہ ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا ۔ ( صحیح بخاری باب بدءالاذان 85/1 )
حضرت بلال نماز کے اوقات میں بلند آواز سے ” الصلوٰۃ جامعۃ “ کہا کرتے تھے لیکن بعد میں حضرت عبداللہ بن زید بن عبدِ ربہ رضی اللہ عنہ نے خواب میں آذان کے مروجہ الفاظ کسی سے سنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو انہی الفاظ کے ساتھ اذان دینے کا حکم دیا اور وحی بھی اس کی تائید میں آگئی ۔ چنانچہ حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
اذان کا آغاز مشاورت سے ہوا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے کی تھی بعد میں بعض صحابہ کے خواب کے ذریعے ( مروجہ ) اذان مقرر ہوئی اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اہم امور میں مشاورت کرنا ایک شرعی طریقہ ہے ۔ ( فتح الباری219-20/2 )

2 ۔ شورائے بدر کبریٰ 2ھ :

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر ( راستے میں ) اپنے اصحاب رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے دی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی رائے سننے کیلئے خاموش رہے تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر کہا : اگر آپ حکم دیں تو ہم دریا میں چھلانگ یا برک الغماد ( یمن ) تک اپنے گھوڑے دوڑانے کیلئے بھی تیار ہیں اس پر روانگی کا حکم ہوا ۔ اور فوج مقام بدر پر پہنچ کر مورچہ زن ہوگئی ۔ ( مسلم شریف ، کتاب الجھاد باب غزوۃ بدر )

3 ۔ شورائے اسارائے بدر 2 ھ :

بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ کیا اور فرمایا ان قیدیوں کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا فدیہ لے کر چھوڑ دیں لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری رائے تو یہ ہے کہ ان کی گردنیں اڑا دی جائیں اس لئے کہ یہ کفر کے امام اور اسلام دشمن سردار ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق فدیہ لے کر قیدیوں کو آزاد کر دیا ۔ ( ترمذی شریف کتاب الجھاد241/1 )
اب اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تائید میں قرآنی آیات نازل ہوئیں ملاحظہ ہو سورہ انفال کا نوواں رکوع ۔

4 ۔ شورائے احد 3ھ :

مولانا صفی الرحمان مبارکپوری نے اپنی مشہور کتاب ” الرحیق المختوم “ میں ذکر کیا ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دفاعی حکمت عملی کے متعلق اپنی رائے پیش کی کہ مدینہ سے باہر نہ نکلیں بلکہ شہر کے اندر ہی قلعہ بند ہو جائیں لیکن بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے سخت اصرار کیا کہ جنگ شہر سے باہر جا کر موزوں ہو گی لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثریت کے اصرار کے سامنے اپنی رائے ترک کر دی اور آخری فیصلہ یہی ہوا کہ مدینہ سے باہر کھلے میدان میں معرکہ آرائی کی جائے ۔ ( الرحیق المختوم ، صفی الرحمن مبارکپوری ص 342 )

5 ۔ شورائے خندق 5ھ :

غزوہ احزاب ( خندق ) کے موقع پر بھی شوریٰ طلب کی گئی کہ باہر جا کر محاذ قائم کیا جائے یا شہر کے اندر مورچے بنائے جائیں ۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے خندق کھودنے کا مشورہ دیا تو مسلمانوں کو یہ رائے پسند آئی چنانچہ اسی پر عمل کرنے کا حکم صادر فرمایا گیا ۔ ( طبقات ابن سعد 66/2 سیرت ابن ہشام 224/3 )

6۔ شورائے مصالحت خندق میں5 ھ :

غزوہ خندق کے موقع پر جب محاصرہ سخت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عظفان کے لیڈروں عیینہ بن حصن اور حارث بن عوف کے ساتھ مدینہ کے باغات کے پھلوں کا ( ثلث ) دے کر مصالحت کی بات کی تو آخری فیصلہ سے قبل مشورہ کرنا ضروری سمجھا گیا انصار کے رہنماؤں میں سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا اگر یہ خدا کا حکم ہے تو ہم تسلیم کرتے ہیں لیکن اگر حکم نہیں ہے تو پھر ہم مصالحت پر تیار نہیں ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ اللہ کا حکم ہوتا تو میں آپ سے مشورہ نہ کرتا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رائے پر شوریٰ کی رائے کو ترجیح دی اور مصالحت کی بات چیت ختم کر دی ۔ ( الکامل لابن اثیر 181/2 سیرۃ حلبیۃ640/2 )

7 ۔ واقعہ افک کے متعلق شوریٰ 6ھ :

غزوہ بنو المصطلق کے سفر میں منافقین کے لیڈر عبداللہ بن ابی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ پر بہتان تراشی کی تھی اور مدینہ منورہ میں پروپیگنڈے کا ایک طوفان برپا کر دیا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ام المومنین سے علیحدگی اختیار کرنے کے متعلق مشورہ کیا اور پھر مسجد میں جا کر اجلاس عام میں کہا ۔
” اے مسلمانو ! کون مجھے معذور جانے گا ۔ اگر میں اس شخص کے خلاف کوئی قدم اٹھاؤں جس سے مجھے تکلیف پہنچی ہے میری بیوی کے بارے میں حالانکہ خدا کی قسم مجھے اپنی بیوی کے متعلق خیر کے علاوہ کچھ معلوم نہیں ہوا ۔ “
لیکن بعد میں سورۃ النور نازل ہوئی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی پاکدامنی واضح ہو گئی اور سازشیوں کو ناکامی ہوئی ۔ ( صحیح بخاری ، کتاب المغازی باب غزوۃ بنو المصطلق )
 

8 ۔ شورائے حدیبیہ :

غزوہ حدیبیہ کے سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ” غدیر الاشطاط “ کے مقام پر پہنچے تو مسلمانوں کے مخبر نے آ کر اطلاع دی کہ قریش مکہ نے اپنے حلیف قبائل کو جمع کر لیا ہے جو آپ کو بیت اللہ سے روکنا چاہتے ہیں اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانو ! مجھے مشورہ دو کہ اب کیا اقدام کیا جائے یہ مناسب ہے کہ قریش کے ان دوستوں ( احابیش ) کے گھروں پر حملہ کیا جائے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رائے دی کہ آپ کعبہ کی زیارت کی غرض سے آئے ہیں پس اسی کیلئے آگے بڑھئے جو بھی ہمیں روکے گا ہم اس سے لڑیں گے لیکن بعد میں صلح ہو گئی ۔ ( صحیح بخاری ، کتاب المغازی باب غزوۃ حدیبیہ )

9 ۔ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق شوریٰ 8ھ :

غزوہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین میں بنوہوازن کے 6000 ہزار قیدی گرفتار ہوئے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے محاصرے سے واپس آ کر جعرانہ کے مقام پر کچھ دیر انتظار کیا تا کہ یہ لوگ ایمان قبول کر لیں تو ان کا مال اور قیدی دونوں واپس کر دئیے جائیں گے لیکن انہوں نے آنے میں دیر کی تو مال غنیمت تقسیم کر دیا گیا ۔ ( ابوداؤد شریف ، کتاب الجھاد 141-42/3 )
بعد میں جب طائف والے پشیمان ہو کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” شورائے عام “ بلائی اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ان کے قیدی رہا کر دئیے جائیں ۔ تم میں سے جو بطیب نفس اپنا قیدی آزاد کرنا چاہے تو مناسب ہو گا ورنہ ہم اسے معاوضہ دے کر آزاد کر دیں گے ۔ لوگوں نے کہا ہم بخوشی آزاد کرتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم واپس جا کر اپنے نمائندوں کو اپنی رائے دو ۔ نمائندوں نے بعد میں آ کر کہا سب راضی ہیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام قیدی رہا کر دئیے ۔ ( بخاری شریف کتاب المغازی )

10۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں شوریٰ 10 ھ :

حضرت معاذ بن جبل کو یمن کا گورنر بناتے وقت شوریٰ بلائی گئی تھی ۔ ارکان شوریٰ نے اپنی اپنی رائے پیش کی اور کافی غور و خوض کے بعد معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا گیا ۔ ( مجمع الزوائد ، کتاب المناقب 46/9






قیام پاکستان اور اس کے اہم تقاضے


مملکتِ خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان ، دنیا کے نقشے پر ایک منفرد محل وقوع ، جغرافیائی عوامل ، معدنی ذارئع ، نظریاتی تشخص اور ثقافتی وجود رکھتی ہے ۔ اگر اس خطے میں مسلم تاریخ کا کھوج لگایا جائے تو بانی پاکستان محمد علی جناح رحمہ اللہ کے بقول پاکستان تو اسی روز معرضِ وجود میں آ گیا تھا ، جب کسی مسلمان نے سب سے پہلے اس خطے پر قدم رکھا تھا ۔ 711ءمیں محمد بن قاسم کی آمد کے ساتھ برصغیر میں پہلی اسلامی ریاست کا آغاز ہوگیا ۔ اگرچہ اس سے پہلے عہدِ فاروقی میں مکران ( بلوچستان ) کے علاقے میں صحابہ رضی اللہ عنہ اور تابعین رحمہ اللہ کی ایک جماعت قدم رنجہ فرما چکی تھی ۔ ان کی قبور آج بھی وہاں پر موجود ہیں ، جن کی نسبت سے پنج گور کا قصبہ معروف ہے ۔ صحاح ستہ کے ایک مجموعے کے مدون امام ابوداؤد رحمہ اللہ کا تعلق سجستان سے ہے ، جو اُس عہد میں بلوچستان کی جغرافیائی حدود میں تھا ۔ یوں برصغیر میں اسلامی سلطنت کو اصل قوت سندھ اور بلوچستان کے راستے سے فراہم ہوئی ہے ۔ امویوں اور عباسیوں نے سندھ میں اپنے گورنر مقرر کئے جس کے نتیجے میں282 سال تک عرب خاندانوں کی حکومت سندھ میں قائم رہی ۔ اس کے بعد مقامی سومرہ خاندان کی حکمرانی شروع ہوئی ۔ اس مقامی حکومت نے باطنی مذہب کو اپنا لیا ، جس کے باعث اس کی سیاسی وفاداریاں فاطمینِ مصر کے ساتھ قائم ہو گئیں ۔ اسی دور میں افغانستان میں غزنوی برسرِ اقتدار آئے ۔ ہندوستان میں اس زمانے میں جے پال کی حکومت تھی جو غزنویوں کے بڑھتے ہوئے اقتدار کو روکنا چاہتا تھا مگر سبکتگین نے اسے غزنی کے قریب شکست دی اور نتیجۃً وہ صلح پر مجبور ہو گیا ۔ غزنوی سلطنت کی سرحدیں پشاور تک قائم ہوگئیں ۔ محمود غزنوی نے1022ءمیں پنجاب کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا اور لاہور کو پایہ تخت بنایا جہاں918 سال بعد بانی پاکستان محمد علی جناح رحمہ اللہ کی صدارت میں دوقومی نظرےے پر مبنی ایک اسلامی ریاست کے قیام کی قرارداد منظور ہوئی ۔


برصغیر کی ملتِ اسلامیہ ایک ہزار سالہ اقتدار کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں سیاسی اقتدار سے محروم ہو کر قعر مذلت میں گر گئی ۔ لیکن بہت جلد اس میں آزادی کی تحریکیں اٹھیں اور انہوں نے مسلمانوں کے تنِ خستہ میں ایک نئی روح ڈال دی ۔ تحریکِ مجاہدین نے ایک ولولہ تازہ دیا ۔ اکبر الٰہ آبادی کی شاعری نے مغربی تہذیب کا نقاب اتار دیا ۔ حالی کی مسدس نے ماضی کے جھروکوں سے مستقبل کی درخشندگی کی تصویر دکھائی ۔ اقبال نے ملت کی خاکستر میں چھپی چنگاریوں کو شعلہ جوالہ بنا دیا ۔ ملتِ اسلامیہ کی درماندگی پر فطرت کو رحم آ گیا اور بانی پاکستان محمد علی جناح رحمہ اللہ کی صورت میں وہ بطلِ جلیل اور مردِ حریت سامنے آیا جس نے ملی قیادت کے پرچم کو سربلند کر دیا ۔ بیسویں صدی کی ملتِ اسلامیہ کے پاس قائداعظم رحمہ اللہ سے بہتر سیاسی بصیرت اور تدبر رکھنے و الی کوئی اور شخصیت نہ تھی ۔ متوسط درجے کے کاٹھیاواڑی تاجروں کے سپوت نے انگریز کے پٹھوؤں اور ان کے کاسہ لیس جاگیرداروں کی دوغلی پالیسی کے باوجود منزل مراد کو حاصل کر لیا ۔ یہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا سیاسی معجزہ تھا ۔ 


نگہ بلند‘ سخن دلنواز‘ جاں پرسوز 

یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے 

( اقبال )

پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے ساٹھ برس گزر چکے ہیں ۔ یہ عرصہ قوموں کی زندگی میں کوئی معمولی اہمیت نہیں رکھتا ۔ کم از کم تین نسلیں اس میں پرورش پا چکی ہیں ۔ مگر قومی اور ملی سطح پر ابھی تک ہم بہت سی محرومیوں اور مایوسیوں کا شکار ہیں ۔ سولہ کروڑ کی آبادی کا موجودہ پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت ہے ۔ اس کے زرعی اور معدنی وسائل ایسے ہیں کہ ہمیں خود انحصاری پر مبنی معیشت کو رواج دینا چاہئیے ۔ مگر ہماری معاشی صورتِ حال مسلسل قرضوں کے باعث مفلوج ہو چکی ہے ۔ مہنگائی کا عفریت منہ کھولے وسیع تر آبادیوں کو نگل رہا ہے ۔ ناخواندگی اور جہالت کی دلدل سے ہم ابھی تک باہر نہیں نکل سکے ۔ جمہوری کلچر ہماری زندگی کا ناگزیر حصہ ہے مگر وقفے وقفے سے اس پر شب خون مارے جاتے ہیں ۔ اس کا باعث اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہمارے ہاں اداروں کی نہیں افراد کی حکومت ہے ، جو قومی تشکیل اور ملی مقاصد کے لیے کوئی مفید راہِ عمل نہیں ہے ۔ ہماری انتظامیہ قوم کی خدمت میں یکسر ناکام رہی ہے ۔ انتظامی اور عدالتی اداروں کے زخم خوردہ لوگ ابھی تک غلامانہ ذہنیت سے نجات حاصل نہیں کر سکے ۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی جس کی اس ملک کو سب سے زیادہ ضرورت ہے ، ابھی تک مفقود ہے ۔ نوجوان نسل بیروزگاری کے چنگل میں گرفتار ہے ، اسے نجات دلانے کا کیا راستہ ہے ، ہمیں اس کی چنداں فکر دکھائی نہیں دیتی ۔ معاشرے کے بعض طبقات میں انتہا پسندی کی علامتیں پائی جاتی ہیں ۔ ہم ایک امتِ وسط اور اعتدال کے رویوں کو حاصل کیوں نہیں کر سکے ، اس پر مسلسل توجہ کی ضرورت ہے ۔
ہماری مملکت کا ایک واضح دستور ہے جس کی حقیقی روح پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں صوبائی منافرت کے جراثیم ملی وجود کو بیمار کر رہے ہیں ۔ توانائی کا بحران ہماری قومی اور صنعتی کارکردگی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے ، اس کے خاتمے کے لیے مناسب منصوبہ بندی کیوں نہیں ہے ؟ معاشرے میں جرائم کی مسلسل بڑھتی ہوئی لہر کہیں رکنے کا نام نہیں لیتی ، اس کے اسباب و وجوہ پر غور کر کے اس کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر کاوش کیوں نہیں کی جاتی ؟ ہمارا تعلیمی نظام اعلیٰ معیارات سے بہت دور ہے ۔ تحقیق ہمارے تعلیمی نظام میں وہ اعتبار حاصل نہیں کر سکی جو کسی قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ثابت ہو سکتا ہے ؟ دینی مدارس میں جو نصابِ تعلیم پڑھایا جا رہا ہے ، اس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ سوچ اور تنگ نظری پیدا ہو رہی ہے ۔ اس میں عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ملی مقاصد کو بروئے کار لانے کی سوچ کیوں مفقود ہے ؟ فقہ کا تقابلی مطالعہ اور جدید تمدنی مسائل پر اجتہادی بصیرت پیدا کرنے کے ذرائع پر توجہ کیوں نہیں دی جارہی ؟ اردو زبان ساٹھ سال گزرنے کے باوجود اپنا صحیح مقام حاصل نہیں کر سکی ۔ علاقائی زبانوں کی ترقی کے ساتھ اس قومی زبان کی سرپرستی نہ کرنے کی بنا پر ہم اپنی ملی تشکیل اور قومی مزاج سے محروم ہیں ۔ ذرائع ابلاغ نے اگرچہ ملک میں بہت ترقی کی ہے مگر وہ سولہ کروڑ افراد کو ایک متحد الفکر قوم بنانے کے فریضے سے غافل ہیں ۔ میڈیا شعور تو پیدا کر رہا ہے مگر اس کے نتیجے میں ذہنی انتشار میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ عورتوں کے حقوق معاشرے میں پامال ہیں اور کم عمر بچے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بجائے ایک بہت بڑی تعداد میں قبل از وقت ملازمت کرنے پر مجبور ہیں ، جس کے باعث ان کی موزوں ذہنی تربیت پر ہماری کوئی توجہ نہیں ۔ ایسے گوناگوں اسباب کی وجہ سے ہمیں عالمی سطح پر سامراجی قوتیں خوف زدہ کر رہی ہیں کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے اور یہ معاذ اللہ بہت جلد اپنا وجود کھودے گی ۔ بہت سے عناصر اس قسم کی مایوسی پھیلا کر قوم میں بے عملی ، انتشار اور انار کی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
ہمارے نزدیک قومی سطح پر سب سے پہلے ہمیں اس مایوسی اور افسردگی کی فضا سے نکلنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان خدا کے فضل و کرم سے ایک توانا قوم اور موزوں وسائلِ معیشت کا ملک ہے ، جس میں ترقی و تعمیر کے تمام تر امکانات موجود ہیں ۔ اس ملک کی جغرافیائی صورتِ حال پر توجہ کریں تو جا بجا قدرت کی فیاضیاں دکھائی دیں گی ۔ قومی اور ملی قیادت کا بحران اگر ختم ہو جائے تو ہم اپنے وسائل پر زندہ رہنے کی مکمل اور بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اس ضمن میں ہمیں جن اہداف پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، ان کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہئیے ۔
ہمیں سب سے پہلے نظریاتی تشخص کا دفاع کرنا چاہئیے ۔ قومیں معاشی بحران سے ختم نہیں ہوتیں مگر نظریاتی اور ثقافتی شناخت کھو کر تاریخ میں مرقع عبرت بن جاتی ہیں ۔ غربت بلاشبہ ہمارا بنیادی مسئلہ ہے مگر اس کا علاج معاشی ناہمواریوں کو ختم کر کے سادگی کے کلچر کو اپنانے میں مضمر ہے ۔ قومی سطح پر ہم ایک سادہ طرزِ زندگی کے خوگر نہیں رہے ۔ اس سلسلے میں حکام بالا اور خوش حال طبقے کو مثال قائم کرنا ہو گی ۔ ہمارے بہت سے وسائل غیر تعمیری کاموں پر صرف ہو رہے ہیں ۔ قرضوں کی معیشت کو ختم کر کے خود انحصاریت کے کلچر کو رواج دینا ہوگا ۔
جہالت اور خواندگی ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ دوسرے تمام مسائل اس کے بطن سے پیدا ہوتے ہیں ۔ قومی سطح پر بہت جلد ایسی تعلیمی پالیسی بنانا چاہئیے جس میں کم سے کم وقت میں مکمل خواندگی کی سطح کو حاصل کیا جاسکے ۔ قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنائے بغیر یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا ۔ بیسیوں قسم کے نصاب ہائے تعلیم کے بجائے قومی سطح کے ایک مربوط نصابِ تعلیم کو جو ہماری نظریاتی اور ثقافتی قدروں سے ہم آہنگ ہو ، فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے ۔ تعلیمی معیار اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا ، جب تک کہ اساتذہ کی ہمہ وقت تربیت اور ان کی ذہنی آسودگی کا اہتمام نہ کیا جائے ۔ ہمارے ہاں اساتذہ کی علمی ، تدریسی اور تحقیقی ترقی کے لیے موزوں ادارے نہیں بنائے گئے ہیں ۔
دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام کو اب سنجیدگی سے اپنے نصابات کی تشکیلِ جدید پر توجہ دینا ہو گی ، وگرنہ جس قسم کے ائمہ اور خطیب وہ پیدا کر رہے ہیں‘ نئی نسلیں ان سے مطمئن نہیں ہیں ۔ اسلام دینِ فطرت ہے اور معاشرتی وحدت کا نقیب ہے ۔ ہم نے اس دینِ فطرت کو فقہی تنگ نائیوں کا شکار کر رکھا ہے اور یہ جدید تمدنی اور سائنسی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے ۔ علمائے کرام اگر اخلاص اور شعور سے توجہ دیں گے تو وہ ایک ایسی راہِ عمل ترتیب دے سکتے ہیں ، جس سے ان کے علمی اور معاشرتی وقار میں اضافہ بھی ہو گا اورامت کی وحدت کے سامان بھی پیدا ہوں گے ، جن کی موجودہ ماحول میں اشد ضرورت ہے ۔
قومی وحدت کے فروغ میں ذرائع ابلاغ بالخصوص الیکٹرانک میڈیا کے کردار کی اہمیت ہر صاحب نظر پر واضح ہے ۔ مگر ہمارے چینل حالاتِ حاضرہ پر تبصرے تو بہت اچھے کرتے ہیں لیکن قومی وحدت کے حصول کے لیے کوئی نمایاں خدمات انجام نہیں دے رہے ۔ ہمیں ابلاغ کے ان ذرائع سے یہ بھی اختلاف ہے کہ وہ تفریح کے مثبت پروگرام پیش کرنے کا تخلیقی شعور نہیں رکھتے ۔ ان کی کمرشل ضرورتوں کا احترام بجا مگر پروگراموں کی علمی اور ثقافتی سطح کو اپنے مخصوص نظریاتی تشخص کے حوالے سے پیش کرنا ، ایک قومی ضرورت ہے ۔ میڈیا کو اگر قومی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تو قوم کو بہت جلد مایوسیوں سے نکال کر عصری چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لائق بنایا جا سکتا ہے ۔
معاشی سطح پر نوجوانوں کو میٹرک کے بعد ایسی فنی اور ووکیشنل تعلیم فراہم کی جائے ، جس کے باعث وہ محض دفتروں میں ملازمت تلاش کرنے کے بجائے اپنی فنی مہارتوں کے ذریعے سے معاشرے کی خدمت کرنے کے ساتھ اپنے لیے باوقار معیشت کا انتظام بھی کریں ۔ اسی طرح گھریلو خواتین کے لیے بالخصوص دیہاتوں میں ایسے صنعت و حرفت کے منصوبے بروئے کار لائے جائیں جس سے ان خاندانوں کی معاشی کفالت میں مدد ملے اور قومی معیشت کو بھی اس سے سہارا ملے ۔ قوم کی سیاسی ، معاشی ، عدالتی اور تعلیمی اصلاح سے زیادہ اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے ۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور اس کا دستوری تقاضا ہے کہ ہم باشندگانِ وطن کو بہترین مسلمان بنائیں ۔ ان کی اخلاقی تربیت کے لیے تمام قسم کے تعلیمی ، دعوتی اور ابلاغی وسائل کو بروئے کار لائیں ۔ اس سلسلے میں ایک ملک میں عوامی کتب خانوں کو رواج دینا چاہئیے ۔ نیز بچوں کے لیے تعلیم و تربیت کا ایک مستقل تعلیمی چینل ترتیب دینا چاہئیے جو ان کی دینی اور اخلاقی تربیت کے مقاصد کو پورا کر سکے ۔


پاکستان میں مایوسی کی جو لہر دکھائی دیتی ہے ، یہ عالمی استعمار اور اس کے مقامی گماشتوں کی پیدا کردہ ہے ۔ یہ ملک آج سے ساٹھ سال پہلے جن حالات میں معرضِ وجود میں آیا ، اس کی نسبت تو آج ہم بہت ترقی کر چکے ہیں ۔ ہم ایک ایٹمی قوت ہیں ۔ ہمارے وسائلِ زندگی میں روز افزوں ترقی ہو رہی ہے ۔ ہم تعلیم اور ابلاغ کی منزلوں کو طے کر رہے ہیں ۔ ہمارا ایک روشن مستقبل ہے اور ہمیں انشاءاللہ اس وطن عزیز کو عالم اسلام کے لیے ایک ماڈل بنانا ہے اور امنِ عالم کے فروغ میں اپنا مثبت کردار انجام دینا ہے ۔ معاشرے میں ہر نوع کے ذمہ داران اٹھیں اور مملکت کی عزت اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں ۔ حکمرانوں اور قیادت کی اپنی ذمہ داریاں ہیں مگر علمائے کرام ، اساتذہ اور ابلاغ کے اداروں پر بھی اس تبدیلی کی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ ع